دیکھتا ہوں میں گلابوں کو بڑی الفت سے
تم ہو میرے لیے پیچیدہ سوالوں کی طرح
کاش آ جاؤ نظر دن کے اجالوں کی طرح
عشق میں ہوتی ہے رسوائی چلو مان لیا
میرا ہی ذکر مگر کیوں ہے مثالوں کی طرح
کیسے کاٹوں میں ترے ہجر کے لمحات بتا
ایک لمحہ بھی گزرتا ہے تو سالوں کی طرح
تجھ پہ چھینٹے نہ پڑیں عشق میں رسوائی کے
تیری عزت کو بچاؤں گا میں ڈھالوں کی طرح
دیکھتا ہوں میں گلابوں کو بڑی الفت سے
مجھ کو آتے ہیں نظر یہ ترے گالوں کی طرح
تیری آنکھوں کو مثالوں سے بیاں کر نہ سکوں
یہ بھی ناکافی ہے کہہ دوں ہیں غزالوں کی طرح
لوگ ریشم کو ملائم و حسیں کہتے ہیں
وہ کہاں تیرے حسیں ریشمی بالوں کی طرح
کیسے چھوڑں میں ترا ہاتھ پکڑ کر جاناں !
میں نے چاہا ہے تجھے چاہنے والوں کی طرح
وہ جو چاہے تو کھلیں، اور نہ چاہے نہ کھلیں
اس نے سمجھا ہے کہ لب ہیں مرے تالوں کی طرح
اک وجد کی ہے کیفیت کہ بنا سازو آواز
رقص اس مست کا ہوتا ہے دھمالوں کی طرح
عشق کرنے میں برائی تو نہیں ہے لیکن
اس میں ہوتی ہے دکھن پاؤں کے چھالوں کی طرح
دور سے آتی ہیں کوئل کی صدائیں زاہد
ان میں ہے درد کا نغمہ مرے نالوں کی طرح
ہماری آنکھوں میں وفا کی اُمید رہنے دو
ہماری آنکھوں میں وفا کی اُمید رہنے دو
سُنو! تُم ہمیں ذرا اپنے پاس رہنے دو
کیوں تمہیں لگتا ہے تمہیں ہم تُم سے چُرا لیں گے
سُنو! تُم پہلے ہی ہم ہو، ہمیں ہم تُم ہی رہنے دو
آج پھر تیرے موضوع پہ بات ہوگئی ہے
آج پھر تیرے موضوع پہ بات ہوگئی ہے
آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات ہو گئی ہے
نکلے ہیں سکوں کی تلاش میں
راستے پہ پھر تم سے ملاقات ہو گئی ہے
اب کیسے جییں بن تیرے
ہم پہ سوار جو تیری ذات ہو گئی ہے
جیتے ہیں کچھ اس ادا سے بشی
جیسے ہماری تو وفات ہو گئی ہے
بے وجہ نہ کہو میرا انتخاب اُسکو
بے وجہ نہ کہو میرا انتخاب اُسکو
میں کہتی ہوں دلکش ماہتاب اُسکو
وہ نہ ہو تو میری تحریریں بھی بے معنی ہیں
میں کہتی ہوں تلفظ کے اعراب اُسکو
دل جب بھی پوچھتا ہے چاہت کا سوال مجھ سے
میں کہتی ہوں ہر سوال کا جواب اُسکو
سمندر کا سا شوخ, نہ دریا کا سا مختصر ہے وہ
میں کہتی ہوں شفاف تالاب اُسکو
بہت خوبصورت ہے وہ دلنشین خیالات کا محور
میں کہتی ہوں سوچوں کا سیماب اُسکو
ایسا ہو کہ کبھی ختم نہ ہوں صفحے اس فسانے کے
میں کہتی ہوں ایک حسین خواب اُسکو
بن بیٹھا ہے وہ "حکمرانِ دل' کچھ اسطرح ایمانؔ
میں کہتی ہوں تم دے دو یہی خطاب اُسکو
پیار مین کسی سے دھوکا نہ کرے کوئی
پیار مین کسی سے دھوکا نہ کرے کوئی
چاھے وفا کے بدلے وفا نہ کرے کوئی۔
کوئی الگ کرے خود سے جدا کرے لیکن۔
عمر بھر بچھڑنے کی استدعا نہ کرے کوئی
ہم ہی غلط سمجھے ہیں شاید پیار کا مطلب
ھے التجا حضور سے اندیکھا نہ کرے کوئی
مانا کہ ہم نکمے ہیں نا ابکار جہاں بھر کے
مگر نگاہ نفرت سے تو دیکھا نہ کرے کوئی
مرتے دم تک یار اسد ساتھ نبھائیںگے اس کا
بس حوصلہ رکھے دل چھوٹا نہ کرے کوئی
دیکھو کہیں جدا نہ ہو جانا
دیکھو کہیں جدا نہ ہو جانا
زمانے کی طرح بیوفا نہ ہو جانا
پیار کرتے ہیں تم سے۔
پیار میں دھوکا نہ دے جانا
پہلے سے اکیلے ہیں تنہا۔
اور مزید اکیلا نہ کر جانا۔
دل کو انتظار ھے شدت سے
کبھی فرصت ملے یار چلے آنا
ضبط دل دے رہا ھے جواب۔
اپنا چہرہ ایک بار دکھا جانا
دل چیر کر دو پارہ کر دو
دل چیر کر دو پارہ کر دو
جو نہیں الگ وہ تمہارا کر دو
چڑھ جائیںگے سولی اس میں کیا ھے
بس ایک بار تم اشارہ کر دو۔
کہاں بھٹکیں دربدر دیار غیر میں۔
اپنے در سے سگ کا گذارا کر دو۔
دے دیا ھے سب طبیبوں نے جواب۔
اپنی اوور سے درد کا چارہ کر دو۔
ہم بھی جی لیں اسد حیات کل اپنے۔
اپنی زندگی میں شامل خدارا کر دو
خواب نہیں حقیقت سا احساس ہوتے ہو
خواب نہیں حقیقت سا احساس ہوتے ہو
جب تم میرے قریب میرے پاس ہوتے ہو
کبھی تو برستے ہو ساون کی گھٹا جیسے۔
اور کبھی شدت غم سی پیاس ہوتے ہو۔
محسوس کرتا ھے دل تمہیں اپنے چار سو
یعنی تم خوشبوء کیطرح آس پاس ہوتے ہو۔
کبھی کبھار تو پیش آتے ہو مہربان کے جیسے
اور کبھی کبھار تو بے رحم بے قیاس ہوتے ہو۔
اسد سائے کی طرح تم ساتھ ساتھ رھتے ہو ھمیشہ
یعنی دل کے قریب تر پاس پاس ہوتے ہو۔
عشق کے در بار میں دیوانہ مر گیا
عشق کے در بار میں دیوانہ مر گیا
اے شمع الفت ترا پروانہ مر گیا
جسپر تجھکو ناز تھا ہاں ہاں وہی۔
آج تیرا پاگل مجنون دیوانہ مر گیا۔
بچھڑ کر بھی تجھ سے تیرا دھیان رہتا ہے
بچھڑ کر بھی تجھ سے تیرا دھیان رہتا ہے
دیکھ تیرے لوٹ آنے کا کتنا امکان رہتا ہے
تم جتنا بھی بُھلاؤ دل سے محبت کو
اس کمبخت کا پھر بھی نشان رہتا ہے
پھر سے بانٹ لیا تم نے محبت کے خسارے کو
ابھی تو جاناں ہمارا پچھلا نقصان رہتا ہے
ہجر زادوں کا فلسفہ تمہیں کیا معلوم
تخیل کے دریچوں میں اک نیا جہان رہتا ہے
ٹھکرا کر چلا تھا وہ میری محبت کو ضیاؔء
سُنا ہے اب اُس کو ہر دم میرا گمان رہتا ہے
Post a Comment